Ek Mutanazaa Iqdām (A Controversial Move)

Ek Mutanazaa Iqdām (A Controversial Move)

This blog, authored by former ambassador Syed Abrar Hussain, critically examines the Indian government’s decision to abrogate Article 370 of its constitution, a provision that granted special autonomy to the state of Jammu and Kashmir. The piece explores the historical background of Article 370, the political motivations behind its removal, and the far-reaching implications for regional stability, bilateral relations between Pakistan and India, and the rights of the Kashmiri people. Through a diplomatic and analytical lens, the author assesses whether this move serves long-term peace or further deepens existing tensions in South Asia.


ایک متنازعہ اقدام

سید ابرار حسین، سابق سفیر

(بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کا جائزہ)

5 اگست 2019 کو، بھارتی حکومت کا اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا فیصلہ، جس نے جموں و کشمیر (J&K) کو خصوصی خودمختار حیثیت دی ہوئی تھی، اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں (J&K اور لداخ) میں تقسیم کرنا، اب بھی ایک انتہائی متنازعہ مسئلہ ہے۔ بھارتی حکومت نہایت ڈھٹائی سے اسے ترقی کے لیے ایک ضروری قدم قرار دے رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اور خود بھارت میں بھی بہت سے ناقدین نے اسے غیر منصفانہ، غیر قانونی، اور خطے کی منفرد شناخت کے لیے ایک شدید دھچکا قرار دیا ہے۔

اس تنازعے کو سمجھنے کے لیے، اس کا تاریخی پس منظر جاننا ضروری ہے۔ جب 1947 میں برطانوی نوآبادیاتی راج کا خاتمہ ہوا، تو جموں و کشمیر جیسی سب  ریاستوں کے پاس بھارت یا پاکستان میں شامل ہونے کا اختیار تھا۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کی اکثریتی جماعت مسلم کانفرنس نے پاکستان میں شامل ہونے کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے کسی بھی ملک میں شامل ہونے کے بارے میں  ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ لیکن بھارتی افواج 27 اکتوبر 1947 کو سری نگر پہنچ گئیں اور مہاراجہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ الحاق کے معاہدے (Instrument of Accession)  پر دستخط کا ڈرامہ رچایا۔ اس ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے آرٹیکل 370 کو خاص طور پر بھارتی آئین میں شامل کیا گیا تھا تاکہ جموں و کشمیر کی الگ شناخت کو برقرار رکھا جا سکے اور اسے کافی حد تک خود مختاری حاصل ہو۔ اس نے بھارتی پارلیمنٹ کی جموں و کشمیر پر قانون سازی کی طاقت کو دفاع، امور خارجہ، اور مواصلات تک محدود کر دیا تھا  جبکہ بھارتی آئین کی دیگر دفعات کے لیے جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی “رضامندی” درکار تھی۔

5 اگست 2019 کو جس طریقے سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا گیا ہے، اس نے بہت سے قانونی اور آئینی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل نے آرٹیکل 370 میں شامل خود حفاظتی اقدامات کو بھی نظر انداز کیا ہے۔  اس شق میں کہا گیا تھا کہ یہ صرف جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی سفارش پر ہی ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ اسمبلی 1957 میں ایسی کوئی سفارش کیے بغیر تحلیل ہو گئی تھی۔

5 اگست 2019 کو، جب جموں و کشمیر صدر راج کے تحت تھا (یعنی ریاستی اسمبلی معطل تھی اور اس کے اختیارات بھارتی پارلیمنٹ استعمال کر رہی تھی)، تو بھارتی حکومت نے اس عارضی انتظام کا استعمال کیا تاکہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی ضرورت کو مؤثر طریقے سے نظر انداز کیا جاسکے۔ انہوں نے ایک صدارتی حکم جاری کیا جس نے آرٹیکل 367 جو کہ ایک تشریحی شق تھی، کو تبدیل کیا تاکہ “آئین ساز اسمبلی” کو مؤثر طریقے سے “قانون ساز اسمبلی” سے تبدیل کیا جا سکے، اور پھر آرٹیکل 370 کو غیر فعال قرار دے دیا۔ اس کے فوراً بعد جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 آیا، جس نے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ہر لحاظ سے اختیارات کا غیر مناسب استعمال تھا، یعنی جو کچھ براہ راست نہیں کیا جا سکتا تھا وہ بالواسطہ طور پر حاصل کیا گیا۔ قانونی ماہرین نے اس اقدام کو مکمل اور واضح طور پر غیر آئینی قرار دیا ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ صدر راج کا استعمال ایسے ناقابل واپسی فیصلے کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا جو کسی ریاست کی آئینی حیثیت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیں۔ اگرچہ بھارت کی سپریم کورٹ نے اس منسوخی کو برقرار رکھا ہے، تاہم اختلافی آوازیں وفاقیت، ریاستی خود مختاری، اور جمہوری نمائندگی کے بارے میں خدشات کو اجاگر کرتی ہیں۔

منسوخی کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں ایک غیر معمولی سیکیورٹی لاک ڈاؤن بھی کیا گیا۔ ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے گئے، مواصلاتی لائنیں (انٹرنیٹ اور موبائل فون) طویل عرصے تک بند رہیں، اور سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، اور عام شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان اقدامات کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وسیع پیمانے پر رپورٹیں سامنے آئیں، جن میں نقل و حرکت، اظہار رائے، اور اجتماع کی آزادی پر پابندیاں، اور من مانی حراست اور تشدد کے الزامات شامل ہیں۔ اگرچہ بھارت نے کہا کہ یہ اقدامات بدامنی کو روکنے کے لیے ضروری تھے، لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین نے کشمیری آبادی پر اس کے اثرات کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی ردِعمل ملے جلے تھے۔ پاکستان نے بھارت کے اقدامات کی سخت مذمت کی، انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، اور سفارتی تعلقات میں کمی کی۔ چین نے بھی خدشات کا اظہار کیا، خاص طور پر لداخ کو مرکزی زیر انتظام علاقہ بنانے کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔ بہت سے مغربی ممالک اور یورپی یونین نے عدم استحکام اور انسانی حقوق کے مسائل کے امکانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت پر زور دیا۔

5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی بلا شبہ جموں و کشمیر اور بھارتی یونین کے درمیان تعلقات میں ایک اہم مگر افسوسناک تبدیلی کا باعث بنی ہے۔ اس کے ذریعے بھارت نے ایک یکطرفہ فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی جس نے تاریخی معاہدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی  امنگوں کو نظر انداز کیا۔ اس عمل کے گرد گھومنے والے قانونی اور آئینی سوالات اور اس کے بعد سامنے آنے والے انسانی حقوق کے خدشات، اس دعوے کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ اقدام نہایت غیر منصفانہ اور غیر قانونی تھا۔

اس سارے معاملے میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی واضح قراردادیں ہیں کہ اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جاۓ گا اور استصواب رائے ہونے تک یہاں کی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جاۓ گی۔ مگر بھارت نے اقوام عالم کے ان فیصلوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں باہر سے لوگوں کو لا کر آباد کرنا شروع کردیا، لاکھوں غیر کشمیریوں کو وہاں کے ڈومیسائل جاری کردیے اور انہیں وہاں جائیدادیں خریدنے کی اجازت دے دی۔ اس سارے منصوبے کا مقصد یہی تھا کہ مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے۔

بھارت کی مودی حکومت یہ سمجھ رہی تھی کہ 5 اگست کے اس مکارانہ اقدام کے بعد کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے دب جائے گا مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ حوصلوں کو زنجیر نہیں پہنائی جاسکتی۔ وادئ کشمیر کے سب گلابوں کو خون سے تر بتر کر کے بھی وہاں کے دلیر باسیوں کے دل سے بہار کی آرزو چھینی نہیں جاسکتی۔

یہ سچ ہے کہ مشکل ہیں راہیں وفا کی

مگر حوصلہ ہے کہ منزل ملے گی۔

چنانچہ اس سال مئی میں بھارت کی مسلط کردہ جنگ میں پاکستان کی واضح برتری کے بعد کشمیر کا مسئلہ دوبارہ اجاگر ہوا ہے اور دنیا کو یہ واضح پیغام ملا ہے کہ اس مسئلے کو پوری طرح حل کیے بغیر اس خطے میں امن کا حصول ناممکن ہے۔

Share this post